اسلام کی روشنی میں محرم اور غیر محرم رشتوں کے لئے حکم:
غیر محرم_کے_لئے_پردے_کا_حکم: خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے اور خواتین کو شرعی پردے کا ماحول فراہم کرنا مردوں کی ذمہ داری ہے اور شرعی پردے کا اہتمام کرنا عورتوں کی ذمہ داری ہے۔مردوں کو چاہیے کہ وہ گھر کی عورتوں کو شرعی پردے کا ماحول فراہم کریں اور ان کو غیر محرم مردوں کے درمیان جانے سے روکیں اگر کوئی مرد ایسا نہیں کرتا تو اس کو دیوث قرار دیا گیا ہے۔اور ایسے مردوں کو جنت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں کو جنت سے محروم کر دیا گیا ہے (۱) شراب کا عادی (۲) والدین کی نافرمانی کرنے والا (۳) وہ دیوث جو اپنے گھروں میں برائی کو برقرار رکھتا ہے۔(سنن النسائی 2562)۔ #دیوث وہ ہوتا ہے جو اپنے اہل و عیال کے سلسلے میں بے غیرت ہو۔ان کو برائی میں دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہوتا۔اسے بھڑوا اور دلال بھی کہتے ہیں۔ غیر محرم مرد اور عورت کو آپس میں میل جول رکھنے کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔کسی اجنبی عورت کا کسی اجنبی مرد کے ساتھ ہنسی مزاق کرنا اور آپس میں تصویریں لینا بھی ناجائز ہے۔نامحرم سے دوستی لگانا،ہاتھ ملانا اور میٹھی میٹھی باتیں کرنا یہ بھی ایک بیوقوفی کی انتہا ہے جہاں گمراہی،بد سکونی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:غیر محرم سے ہاتھ ملانا غضب الہی میں مبتلا ہونا ہے نا محرم عورت اور نا محرم مرد کا ہاتھ ملانا حرام ہے۔ آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ غیر محرم سے پردہ کرنا فرض ہے چاہے وہ کوئی اجنبی مرد،عورت،رشتےدار،دیور جیٹھ ہی کیوں نہ ہو۔
سوشل_میڈیا_پر_نامحرم_سے_بات_چیت: غیر محرم مرد اور عورت کی بات چیت آمنے سامنے ہو، موبائل پیغامات (میسجنگ) کے زریعے ہو ، یا سوشل میڈیا پر چیٹنگ ہو ، سب کے لئے اللہ تعالٰی نے ایک ہی اصول مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ: اور جب تم ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھو ، تو پردے کی اوت میں بات کرو۔ یہ تمھارے دلوں اور انکے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (الاحزاب ، سورہ نمبر: 33 آیت نمبر: 53) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر محرم مرد اور عورت آپس میں کام کی بات کر سکتے ہیں۔ اور بات کرنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ عورت پردے کی اوت میں ہو۔ موبائل ، یا میسینجرز پر کال کرتے ہوں، یا چیٹ کے دوران پردے کی اوت میں تو ہوتے ہی ہیں۔ ہاں کوئی ویڈیو کال کر کے پردے کی اوت کو ختم کر دے تو الگ بات ہے۔ اور دوسری اہم بات جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ ہے "کام کی بات"جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اس کا لحاظ رکھے بغیر بات چیت کی جاتی ہے۔اس آیت میں پردے کا ذکر کرنے سے پہلے بیان کیا گیا ہے کہ غیر محرم صرف اہم مسئلہ پر ہی ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔اور گپ شپ لگانے کی اجازت شریعت میں انکے لئے بالکل بھی نہیں ہے۔یہ بات سب اچھی طرح سمجھ لیں۔ مسلمان ماؤں،بہنوں،بیویوں اور بیٹیوں کے نام پیغام ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: اے نبی ﷺ! آپ اپنی بیویوں،اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی چادریں اپنے(منہ کے)اوپر جھکا لیا کریں۔(الاحزاب:آیت نمبر:59) پردے کا دوسرا نام عورت ہے۔پردہ_کیجئے! کیوں کہ پردہ پاکدامنی اور شرم و حیا کو ظاہر کرنے والا زیور اور پیکر عفت کی طرف اٹھنے والی آوارہ،بے شرم اور ہوس بھری نگاہوں سے حفاظت کے لئے ڈھال ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں